مالیات برائے کتب خانہ جات Library Budget and Finance

مالیات Finance
کسی بھی ادارے کی ترقی اور بہتر کارکردگی کا درومدار اس کے مالی وسائل پر ہوتا ہے مالی وسائل جس قدر زیادہ ہوں گے وہ ادارہ اسی طرح زیادہ ترقی کرے گا اور مضبوط ہوگا، کتب خانہ ایک خرچ کرنے والا اور ایک نامیاتی ادارہ ہوتا ہے اسے قائم کرنے، آئندہ قائم رکھے اور مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے وسیع مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ کسی بھی کتب خانے کی اپنی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کتب خانہ خواہ وہ کسی بھی قسم کا کسی بھی ادارے یا حکومت کے ماتحت ہو، وہ حکومت یا ادارہ اپنے کل بجٹ کا کچھ فیصد کتب خانے کے لیے لازمی مختص کرتے ہیں۔یہ رقم کتب خانہ کا بجٹ کہلاتی ہے۔
بجٹ کسے کہتے ہیں
بجٹ جسکو میزانیہ بھی کہا جاتا ہے کسی بھی ادارے کے ایک مالی سال کی آمدنی و اخراجات کا تخمینہ ہوتے ہے، ہر سال مالی سال شروع ہونے سے پیشتر دنیا کی تمام حکومتیں آنے والے سال کے لیے اپنی آمدنی اور اخراجات کا ایک اندازہ/تخمینہ لگانے کی کوشش کرتے ہیںاور پھر اس تخمینہ کے مطابق چند مالی پالیساں اختیار کرتی ہیں یا پرانے اصولوں میں معمولی یا زیادہ ردو بدل کرتی ہیں اس تمام کار گزاری کو میزانیہ سازی کہتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے اور تیس جون کو ختم ہوتا ہے حکومتیں اپنی مالیاتی پالیسی کے تحت جو متوقع آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ تیار کرتی ہیں اس قسم کے تخمینہ کو متوقع سرکاری میزانیہ کہا جاتا ہے اور اس کو سرکاری بجٹ کا نام دیا جاتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں اپنے بجٹ کو دوحصوں میں تیار کرتی ہیں ایک آمدنی کا بجٹ اور دوسرا کیپیٹل بجٹ، آمدنی کا بجٹ میں حکومتوں کے وہ تمام اخراجات درج کیے جاتے ہیں جو ملک کی فلاح و بہبود کیلیے استعمال ہوتیہیں، اور ان اخراجات کو حکومت کی آمدنی سے پورا کیا جاتا ہے۔جبکہ کیپیٹل بجٹ میں وہ تمام اخراجات شامل کیے جاتے ہیں جو کہ ملک کے معاشی شعبوں کی ترقی پر کیے جاتے ہیں۔
خسارے کا بجٹ اور فاضل بجٹ
جب بجٹ میں حکومت کی آمدنی کا تخمینہ اخراجات کے تخمینے سے زائد ہوتا ہے تو ایسا بجٹ فاضل بجٹ کہلاتا ہے جسکو (سرپلس) بجٹ بھی کہا جاتا ہے۔ایسا بجٹ ظاہر کرتا ہے کہ یا تو آمدنی کا تخمینہ زائد لگایا گیا ہے یا پھر جاری مالی سال کے لیے اخراجات کو کم کر دیا گیا ہے اس لیے فاضل بجٹ کا عوام پر برا اثر پڑٹا ہے اس کے برعکس خسارے کا بجٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جاری مالی سال میںحکومت کے اخراجات کا تخینہ اس کی آمدنی کے تخمہنی سے زیادہ ہے اور ان زائد اخراجات کیلیے لوگوں پر اس مرحلے میں دوبارہ تیکس نہیں لگایا جاے گا۔
کتب خانے اور بجٹ:
کسی بھی کتب کانے لیے مختص کی جانے والی رقم کتب خانہ کا بجٹ کہلاتی ہے، بجٹ کا احصار ادارے اور کتب خانہ کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے مثلا حکومت اپنے کل بجٹ میں جو رقم قومی کتب خانہ کی ترقی کے لیے مختص کرتی ہے وہ اس کا بجٹ کہلاتاہے، بجٹ ک مزید تقسیم کتب خانہ کی انتظامیہ اپنی ضروریات کے مطابق کرتی ہے۔
اسکول اور کالج کا بجٹ:
اسکول و کالج اور جامعات کے کتب خانوںکا بجٹ انتظامیہ کیکل بجٹ میں شامل ہوتا ہے بعد ازاں انتظامیہ کتب خانہ کیلیے کچھ رقم مختص کرتی ہے جو کتب خانہ کا بجٹ کہلاتا ہے۔اسی طرح دیگر اقسام کے کتب خانوں کا بجٹ بھی کتب اااخانہ کی انتظامیہ جس کے تحت وہ کتب خانہ کام کرتا ہے مقرر کرتی ہے۔بجٹ کی مزید تقسیم کتب خانہ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے لائبریرین بطور منتظم کتب خانہ دیگر عملہ کے تعاون سے کرتا ہے۔
کتب خانہ کے بجٹ کی تقسیم:
کتب خانہ کے بجٹ کی تقسیم میں عموما درج ذیل امور شامل ہوتیہیں اور مختلف مدوں میں خرچ ہونے والے اخراجات کی تفصیل کچھ اس طرح ہو گی۔
1۔ کتب خانہ کے عملہ کی تنخواہ
2۔حصول کتب (خریداری کتب)
3۔حصول رسائل و جرائد
4-حصول اخبارات
5- اسٹیشنری (کاغذ، پنسلیں، مارکر، کاربن پیپر وغیرہ)
6-فرنیچر کی خریداری (کرسیاں، میزیںوغیرہ)
7-برقی آلات کی خریداری (پنکھے، لائٹس، کولر، اے سی وغیرہ)
8-مرمت آلات
9-جلد سازی
10-عمارت کا کرایہ
11-سالانہ صفائی
12-نمائش کتب
13-بل (بجلی، ٹیلی فون، گیس،پانی وغیرہ)
14- کمپیوٹر کی خریداری
15 – کمپیوٹر کی مینٹینس
19- سکیورٹی سٹرپس کی خریداری
20- بک پاکٹ، مستعیر کارڈ، کتابی کارڈ وغیرہ کی خریداری
21- متفرق اخراجات
مندرجہ بالا مدوں میں رقوم کی تقسیم میں عملہ کی تنخواہ کے بعد سب سے زیادہ بجٹ کا خرچ کتب اوررسائل و جرائد کی خریداری پر ہوتا ہے عموما کل لائبریری بجٹ کا 40سے 50 فیص حصہ علمی مواد کی خریداری کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ماہر لائبریر ی سائنس جناب الطاف شوکت نے اپنی کتاب میں نظام کتب خانہ میں اخراجات کی تقسیم کچھ اس طرح سے کی ہے۔
1-تنخواہ اسٹاف کیلیے کل رقم 50 ٪
2۔کتابوں کے لیے کل رقم 25٪
3۔ اخبارات و رسائل کے لیے رقم 12٪
4-جلد سازی کے لیے رقم 05٪
5-بیمہ کاری کے لیے رقم 01٪
6- بلوں کے لیے رقم 02 ٪
7- اسٹیشنری و دیگر متفرق اخراجات 05 ٪
ہر قسم کے کتب خانوں کے بجٹ کی تقسیم کے لیے سب سے آسان فارمولا اور واضح و مناسب طریقہ انجمن فروغ و ترقی کتب خانہ جات کے شائع کردہ پلان فار لائبریری ڈویلپمنٹ میں بیان کیا گیا ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے
اسکولوں کے کتب خانے اور بجٹ
پرائمری اسکولو ں میں پانچ روپیے فی طالب علم سالانہ صرف کتب و رسائل کے لیے مختص ہونا چاہیے مثلا ایک اسکول میں اگر بچوں کی کل تعداد 100 ہے تو سالانہ لائبریری بجٹ کتب و رسائل کیلیے 500 روپیے جمع ہوں گے کتب خانے کے دیگر اخراجات اسکول کے کل بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
اسی طرح اگر ہائی اسکول ہے تو فی طالب علم 10 روپیے سالانہ اس سے فیس لی جائے گی یہ رقم بھی صرف کتب و رسائل کی خریداری کے لیے مخصوص ہوگی کتب خانے کے باقی اخراجات اسکول کے کل بجٹ سے پورے کیے جائیں گے، موجودہ دور میں فی طالب رقم میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم پرائیوٹ ادارے اس رقم کو اپنی منشاء کے مطابق کم یا زیادہ کرتے ہیں۔
کالج کتب خانہ اور بجٹ:
پاکستان میں کالج کی بہت سی اقسام ہیں جن میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، کامرس کالج، لاء کالج، میڈیکل کالج، ایسوسی ایٹ کالج، گریجوائیٹ کالج وغیرہ موجود ہیں انجمن فروغ و ترقی کتب خانہ جات نے اپنی سفارشات میں کسی بھی کالج میں لائبریری فیس فی طالب علم 25 روپیے مقرر کی ہے جو کہ انتہائی معمولی ہے، طلباء سے حاصل ہونے والے یہ رقم کتب اور رسائل کی خریداری کے لیے استعمال ہو گی۔اگر کسی کالج میں طلبہ کی تعداد 8000 ہے تو صرف کتب و رسائل کی خریداری ک لیے سالانہ دو لاکھ روپیے مقرر ہوں گے۔ موجودہ دور میں کالجز کے اندر طلبہ سے 200 سے 500 تک فیس مقرر ہے جو کہ قابل واپسی ہوتی ہے۔
تقسیم بجٹ برائے کالج لائبریری:
1000 کالج میں طلبہ و طالبات کی کل تعداد
50 کالج میں اساتذہ کی کل تعداد
رقم فی طالب علم 25روپیے کے حساب سے 2500 ہزار سے زائد صرف کتب اور رسالہ جات کے لیے مخصوص کی جائے گی اس رقم میں سارا سال اخبارات اورر سائل کی خریداری ہو گی۔
کالج میں کتب کے لیے بجٹ کی تقسیم:
25 برائے حوالہ جاتی کتب
10 نصابی کتب
25 مختلف علوم و فنون کی عام کتب
10 سمعی و بصری مواد
25 رسائل و جرائد
5 اخبارات
نوٹ:
عملہ کی تنخواہ عمارت کی مرمت، فرنیچر و آلات کی خرید و مرمت جلد سازی، بجلی بل، پانی بل و دیگر اخراجات کالج کے بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
قومی کتب خانہ کا بجٹ:
قومی کتب خانیکے لیے کل قومی آمدن کا 0.10روپیے سالانہ بجٹ مختص ہوتا ہے۔
جامعات کے کتب خانے:
جامعات کے کتب خانوں میں طلبہ کے داخلہ کے وقت کم از کم پچاس روپیے فیس مقرر ہے تاہم اب یہ رقم بڑھ کر 1000 سے 2000 تک وصول کی جاتی ہے اور یہ رقم بھی اسکول و کالج کی طرح صرف کتب و رسائل و جرائد کی خریداری پر صرف کی جاتی ہے۔کتب خانے کے باقی تمام اخراجات جامعات کے کل بجٹ سے پورے کیے جاتے ہیں۔مختلف شعبہ جات کے کتب خانوں میں اس ادارے کے کل بجٹ کا 5 فیصد کتب خانے کیلیے صرف کتابوں اور رسائل و اخبارات کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔وقت و حالات اور ضروریات کے مطابق فی کس رقم میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے کتب خانے کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!