کتب خانوں کا معاشروں میں کرداراور ہمارا رویہ (محمد اکرم)

Ch. Muhammad Akram

کتب خانوں کا معاشروں میں کرداراور ہمارا رویہ

تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کریں تو کتا ب ماضی کی جبیں پر یہ الفاظ ثبت ہیں کے قومیں وہی بام عروج کو پہنچتی ہیں جو اپنے اسلاف کی تاریخ کو اپنی جبیں کا جھومر بنالیتی ہیں اور جو قوم اجداد سے آنکھیں پھیر لے اسکی بے بسی نوشتہ دیوار ہوا کرتی ہے۔ بزم ہستی شاہد ہے کہ عہد مسلم میں جتنی فوقیت کتب خانوں کو ملی شاید ہی کسی قوم نے دی ہے اور کہتے ہیں،ترقی کا راز تعلیم میں ہے تو تعلیم میں ترقی کتب خانوں سے منسوب ہیں اسی راز کو مسلمانوں نے پا لیا تو بیت الحکمت اور درالحکمت جیسے کتب خانے پورے عالم میں اپنی مثال آپ تھے۔سقوط بغداد میں بیت الحکمت کو ہلاکو خان کی سپہ تا تاریوں نے جب اس کتب خانے کو دریا برد کیا تو دریاے دجلہ کاپانی سات دن تک سیاہ رہا او ر تاتاریوں نے کتابوں سے پل بنا کر دریا عبور کیا، صدیوں پر محیط علم و ادب کے خزانے کو صفحہ ہستی سے معدوم کر دیا گیا۔
ملک تعلیم سے ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہیں تو تعلیم کتب خانوں سے عروج پاتی ہے، مغرب کی ترقی اور فلک بوس عروج کا قصہ معشیت اور تعلم سے سرشار ہے مغرب کی ہیت کو فقط ٹیکنالوجی کے پیمانے پر پرکھنے والوں نے ان کے کتب خانوں کے عروج سے پہلو تہی کی۔ سات سو قبل مسیح آشوربانی پال کے کتب خانے سے کتب خانوں کا یہ سفر پرگامم کتب خانے سے ہوتا ہوا سکندریہ اور آج ۲۰۱۷ میں یہ دنیا کی سب سے بڑی لائبریری، لائبریری اٖآف کانگریس کی شکل میں موجود ہے۔کتب خانوں نے عروج و زوال کے ان گنت نقوش قرطاس ہستی کی کتاب میں چھوڑے، مٹی کی تختیوں سے چلنے والی کتاب کی تحریک ویلیم، پارچمنٹ، پپائرس سے ہوتی ہوئی ۱۰۵ عیسوی میں چائنہ میں پہنچی اور پھر اڑن کھٹولے کی اڑان پکڑتی ہوئی ڈیجیٹل، انٹرنیٹ، آن لائن، پی ڈی ایف تک پہنچی اور ابھی یہ سفر باقی ہے۔
شومی قسمت کہ ارض پاک وہ خطہ ہے جہاں کتابیں فٹ پاتھ پر پڑی خاک پاے مسلم کی ٹھوکریں کھارہی ہیں تو کبھی ریڑھی پر ردی والا اسے پانچ روپیے کلو میں خرید رہا ہوتا ہے، اس کے برعکس جوتیا ں شیشوں کے دلکش اور برقی قمقوں میں چمکتی بے حس آدم کی ذہنیت کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں ہم تین ہزار کے جوتی خرید کر شیخی بکھیرنے میں ثانی نہیں رکھتے، جبکہ تین سو کی کتاب خریدنا ہماری جان و جیب پر گراں گزرتی ہے،موبائل پکڑنا عزت اور کتاب پکڑنا عار لگتا ہے۔بازار میں جانا پسندیدگی کی علامت مگر کتب خانے میں جانا وقت کا ضیاء لگتا ہے، فیس بک پر گھنٹوں محو تو ہو سکتے ہیں مگر کتاب کا ایک صفحہ پڑھنے سے آنکھیں دکھیں تو پھر اس قوم کے افراد کے اس روپے پر نوحہ اور رویا ہی جا سکتا ہے۔
پاکپتن فقط ایک شہر کا نام نہیں بلکہ ایک تاریخ کا رخشندہ باب ہے، شہر فرید بابا فرید کے نام سے عالم میں شہرت کا حامل شہر مگر کتب خانوں کے لحاظ سے ابتر حالت کا خماز ہے، اس کو ضلع بنے بھی بیس سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، آبادی ہزاروں سے لاکھوں کے ہندسوں کی حدوں سے نکل گئی مگر آج بھی یہ شہر کتب خانوں کی قلت کا شدید شکار ہے اس میں چند کتب خانوں کا احوال اور ان کی حالت زار اس معاشرے کی کتاب سے عدم توجہی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بابا فرید میونسپل لائبریری 10 جنوری 1954 کوموجودہ ریلوے روڈ پر جود میں آئی، اڑتیس سال یہ کتب خانہ وقت کی رفتار کے ساتھ تھکتا ہارتا لڑکھڑاتا بھاگنے کی سعی کرتا رہا حالات کے تھپیڑے کھاتا رہا 1989میں لائبریری کو بلدیہ ھال میں منتقل کر دیا گیا اس کتب خانے کی کتب پر وقت کی گر د پڑتی رہی اور صفحات پھٹتے رہے، خستہ حالت سے کتب کا دم گھٹتا رہا، 1981 سے 2000 تک یہ کتب خانہ اپنی زبوں حالی اور ویرانی کے رونے روتا رہا، آخرش مسٹر اعجاز حسین موجودہ لائبریری انچارج کی پہیم سعی سے ایک نئی عمارت نصیب ہوئی، جسکا سنگ بنیاد ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ ٹیم کے انچارج لیفٹینٹ کرنل فرحان اخترنے رکھا، شہر فرید کے فہم رکھنے والے افراد نے اینٹیں، سیمنٹ، نقدی، کمپیوٹر، کرسیاں، میزیں دے کر اس کی تکمیل میں میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس نئی عمارت کا باقاعدہ افتتاح 31فروری 2001کو برگیڈیئر احمد چھٹہ کمانڈر ۱132وکاڑہ نے کیا اور اس کتب خانے کو ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے زیر انتظام کر دیا گیا۔
اس کتب خانے کا کل رقبہ17مرلے ہے جس میں 10 مرلے پر عمارت مشتمل ہے اکیسویں صدی میں یہ رقبہ لائبریری کے نام پر مذاق کے مترادف ہے اور کسی بھی کتب خانے کے لیے نا کافی ہے اس کتب خانے کے دو کمرے ہیں، ایک ریڈنگ ھال، سٹور، ریفرنس سیکشن موجود ہے، اقبالیات، سیرت النبی ﷺ، شاعری، سفر نامے، تاریخ، ناول، افسانوں کے بہترین نمونوں کو دلآویز انداز میں لائبریری میں رکھا گیا ہے، کتب خانے میں موجود کتب کی تعداد ۳۵۰۰۰کے لگ بھگ ہے روزانہ تیرہ اخبارات اردو انگریزی زبانوں میں اس کی زینت بنتے ہیں، پانچ کمپیوٹر کو انٹرنیٹ سے منسلک کر کے کتب خانے کو جدید یت کی راہ پر گامزن کرنے کی سعی کی جا رہی ہے،پانچ لوگوں کا سٹاف روزانہ کتب خانوں میں آنے والوں کو سروس فراہم کرنے میں سرکرداں ہے، ۶۰ کرسیوں میں بیشتر قاری کی منتظر رہتی ہیں، ۶۵ سال سے زائد عرصہ میں یہ کتب خانہ فقط دو سو ممبر ہی بنا سکا جو ہمارے معاشرے کی کتاب اور لائبریری سے بے اعتنائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پتھر کے زمانوں میں کتب کو صندوقوں اور زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھااور لوہے کی بڑی بڑ ی الماریوں میں حفاظت کے نام پر قفل لگاکر مقید کر لیا گیا۔وسائل کی کمی، سٹاف کی قلت، عوام کی عدم دلچسپی، حکومت کا عدم توجہ کا رویہ، فنڈ کی فراہمی میسر نا ہونا یہ سب کتب خانوں کی ویرانی کا سبب ہیں۔
یونیورسٹی آف لاہور پاکپتن کیمپس کی لائبریرین بشری ناز نے بتایا کہ لائبریری میں اس وقت چھوٹا سا کتب خانہ قائم ہے جو سٹوڈنٹ کی ضرورت کے لیے نا کافی تاہم اس کے لیے نئی لائبریری کی عمارت زیر تعمیر ہے ابھی ان کی کل کتب3500 کے لگ بھگ ہیں، اس کتب خانے کو لمز سوفٹ ویئیر سے منسلک کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔
پاکپتن میں ایک اور نایاب کتب خانہ،بابا فرید لائبریری بھی ہے جو دربار کے ساتھ مسجد کے نیچے موجود ہے جو محکمہ اوقاف کے تحت ہے، اسکے موجودہ انچارج رانا تنویرنے بتایاکہ پنجاب میں کل اوقاف کے تین کتب خانے ہیں دو لاہور اور ایک پاکپتن میں ہے اس میں بابا فرید پر نادر کتب کا مجموعہ 2580جو زائرین اور عام عوام کے لیے مختصص ہے، بابا فرید پر تحقیق کرنے والے لوگ اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔حاجی اللہ دتہ انگلش ٹیچر بصیر پور آجکل اس کتب خانے سے اپنی پی ایچ ڈی کے لیے بابا فرید شناسی کی روایت کا تنقیدی جائزہ پر ریسرچ کر رہے ہیں۔
گورنمنٹ گرلز کالج کتب خانے کی انچارج آصفہ خورشید سیال صاحبہ کے بقول ان کے کتب خانے میں کل10397کتب کا ذخیرہ موجود ہے جو 21000 طلبہ کی ضروریات کے کو پورا کر رہا ہے تاہم لائبریرین نا ہونے سے یہ کتب خانہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
گورنمنٹ فریدیہ پوسٹ گریجوائیٹ کالج کی کتب کا ذخیرہ ہ1400ہے ضلع کے تما م تعلیمی کتب خانوں سے زیادہ ہے، یہا ں پر بھی لائبریرین نا ہونے سے موجودہ دور کے کتب خانوں سے ہم آہنگ نہیں، پرنسپل رانا طارق عزیز ناصر کی کتب دوست پالیسی سے ایچ ای سی کی ڈیجیٹل لائبریری کام کر رہی ہے اور اس کتب خانے کو پروفیسر بخت یا ر ظفر شعبہ کتب خانہ جات نے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوہا سوفٹ ویئر پر آٹو میٹیڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔
عارف والامیں پاکپتن کی تاریخ کے سب سے پرانے کتب خانے گوررنمنٹ علامہ اقبال پبلک لائبریری کو دیکھا تو اسکی ابتر حالت سکوت ماتم کر رہا تھا۔ مسٹر شکیل قمر موجودہ انچارج کے مطابق اس کتب خانے کا باقاعدہ آغاز20 فروری1938کو سردار ہزارہ سنگھ نے اس کا افتتاح کیا تھا، جاہن برینڈر اس کے پہلے لائبریرین تھے،اس دور کی 3500نایاب کتب کوعملہ کی عدم توجہی سے دیمک چاٹ گئی اب اس کی 2000 موجودہ کتب کا ذخیرہ ہے اسی طرح عارف والا میں گوشہ ادب لائبریری تھی جو آج بلکل ختم ہو چکی ہے
گورنمنٹ پوسٹ گریجوائیٹ کالج عارف والا کے کتب خانے میں بھی لائبریرین موجود نہیں ایک پروفیسر کو اسکا چارج دیا گیا ہے اس کتب خانے کا کل ذخیرہ کتب 11000کے قریب ہے جو 1800 سے زائد طالبعلموں کو فوری اور جدید سہولیات دینے سے قاصر ہے۔
پاکپتن کے تمام سرکاری کتب خانے اکیسویں صدی کے، ڈیجیٹل لائبریری، وریچوئیل لائبریری، ملین بکس لائبریری،گوگل لائبریری، سوشل میڈیا لائبریری، الیکڑونکس لائبریری اور ایمازون کی شکل میں کتب خانے موجود ہیں، جہاں آن لائن، ایچ ای سی کی ڈیجیٹل لائبریری لاکھوں کتب اور آرٹیکل مہیا کر رہی ہے وہاں یہ کتب خانہ اپنی ویب سائٹ سے بھی قاصر ہے، جہا ں دنیا گلوبل ویلج کا روپ دھار چکی ہے وہاں پاکپتن کی تمام لائبریریاں ریسورس شئیر کے نام سے بھی آشنا نہیں۔جہاں دنیا ہفتہ بھر کتب خانے چوبیس گھنٹے کھلے ہوتے ہیں یہاں دن کے اجالے میں تالے پڑے ہوتے ہیں، ہمیں ضرورت ہے سوچ بدلنے کی ہمیں ضرورت ہے رویے بدلنے کی، کتب خانوں میں انقلاب برپا کریں گے تو قوم انقلابی بنے گی اور ملک میں مکتب،معلم،طالبعلم اور کتب خانے آباد ہوں گے۔جس دن یہ قوم اس سے راز سے آشنا ہو گئی کہ ترقی کا راز کتب میں ہے اس دن یہ ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہو گا اور اسکی عوام کتب خانوں کی طرف رخ کرے گی، کتب خانے آباد ہوں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!