لائبریری بجٹ

ہینری فوئل کے 14 پرنسپل

ہنری فاؤل ، جسے ’جدید انتظامی نظریہ کے والد‘ بھی کہا جاتا ہے ، نے انتظامیہ کے تصور کے بارے میں ایک نیا تاثر دیا۔ انہوں نے ایک عمومی نظریہ پیش کیا جس کا اطلاق ہر سطح کے نظم و نسق اور ہر محکمہ میں کیا جاسکتا ہے۔ فیوئل تھیوری منیجرز کی طرف سے کسی تنظیم کی داخلی سرگرمیوں کو منظم اور منظم کرنے کے لئے عمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے انتظامی کارکردگی کو پورا کرنے پر توجہ دی۔

  1. کام کی تقسیم –

ہنری کا خیال تھا کہ کارکنوں میں افرادی قوت میں الگ الگ کام کرنے سے مصنوعات کے معیار میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح ، اس نے یہ نتیجہ بھی نکالا کہ کام کی تقسیم مزدوروں کی پیداوری ، کارکردگی ، درستگی اور رفتار کو بہتر بناتی ہے۔ یہ اصول مینیجر کے ساتھ ساتھ تکنیکی کام کی سطح دونوں کے لئے بھی موزوں ہے۔

  1. اتھارٹی اور ذمہ داری-

یہ مینجمنٹ کے دو اہم پہلو ہیں۔ اتھارٹی انتظامیہ کو موثر انداز میں کام کرنے میں سہولت فراہم کرتی ہے ، اور ذمہ داری انہیں ان کی رہنمائی یا قیادت میں کئے گئے کام کے لئے ذمہ دار بناتی ہے۔

  1. نظم و ضبط-

نظم و ضبط کے بغیر ، کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ کسی بھی منصوبے یا کسی بھی انتظام کے لئے بنیادی قدر ہے۔ اچھی کارکردگی اور سمجھدار باہمی تعلقات انتظامی کام کو آسان اور جامع بناتے ہیں۔ ملازمین کا اچھا سلوک انہیں پیشہ ورانہ کیریئر میں آسانی سے تعمیر اور ترقی میں بھی مدد کرتا ہے۔

Command.4. اتحاد کا حکم-

اس کا مطلب ہے کہ ایک ملازم کے پاس صرف ایک مالک ہونا چاہئے اور اس کے حکم پر عمل کرنا چاہئے۔ اگر کسی ملازم کو ایک سے زیادہ باس کی پیروی کرنا ہوتی ہے تو ، وہاں دلچسپی کا تنازعہ شروع ہوتا ہے اور الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔

  1. اتحاد کا اتحاد-

جو بھی اسی سرگرمی میں مصروف ہے اس کا ایک متفقہ مقصد ہونا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی میں کام کرنے والے ہر شخص کا ایک مقصد اور محرک ہونا چاہئے جس سے کام آسان ہوجائے گا اور مقررہ ہدف آسانی سے حاصل ہوجائے گا۔

  1. انفرادی مفاد کے ماتحت

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کو ذاتی مفاد کی بجائے کمپنی کے مفاد کے لئے متحد ہوکر کام کرنا چاہئے۔ کسی تنظیم کے مقاصد کے ماتحت رہیں۔ اس سے مراد کسی کمپنی میں پوری چین آف کمانڈ ہے۔

  1. معاوضہ

یہ کسی کمپنی کے کارکنوں کو تحریک دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ معاوضہ مانیٹری یا غیر مالیاتی ہوسکتا ہے۔ تاہم ، یہ کسی فرد کی کوششوں کے مطابق ہونا چاہئے۔

  1. مرکزیت-

کسی بھی کمپنی میں ، انتظامیہ یا فیصلہ سازی کے عمل کے لئے ذمہ دار کوئی اتھارٹی غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ تاہم ، اس کا انحصار کسی تنظیم کی جسامت پر ہوتا ہے۔ ہنری فاؤل نے اس نکتے پر زور دیا کہ اقتدار کی تقویم اور تقسیم کے مابین ایک توازن ہونا چاہئے۔

  1. اسکیلر چین-

اس اصول پر فائیل نے روشنی ڈالی کہ درجہ بندی کے مراحل کو اوپر سے نیچے تک ہونا چاہئے۔ یہ ضروری ہے لہذا ہر ملازم اپنے فوری سینئر کو بھی جانتا ہے ، انہیں ضرورت پڑنے پر ، کسی سے بھی رابطہ کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔

  1. آرڈر-

کام کرنے والی سازگار ثقافت کے ل A کسی کمپنی کو ایک اچھی طرح سے بیان کردہ ورک آرڈر برقرار رکھنا چاہئے۔ کام کی جگہ پر مثبت ماحول سے زیادہ مثبت پیداوری کو فروغ ملے گا۔

  1. ایکویٹی-

تمام ملازمین کے ساتھ یکساں اور احترام سلوک کیا جائے۔ یہ ایک مینیجر کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی ملازمین کو امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہئے۔

  1. استحکام-

اگر کوئی ملازم اپنی ملازمت میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے تو سب سے بہتر فراہم کرتا ہے۔ انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ملازمت کی حفاظت فراہم کرے۔

  1. پہل-

انتظامیہ کو ملازمین کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنا چاہئے تاکہ وہ کسی تنظیم میں پہل کریں۔ اس سے ان کی دلچسپی بڑھنے اور اس کے قابل ہونے میں مدد ملے گی۔

  1. ایسپرٹ ڈی کور-

انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی حوصلہ افزائی کریں اور باضابطہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ اعتماد اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ سے مثبت نتائج اور کام کے ماحول کا باعث بنے گا۔

انتظامیہ کے یہ 14 اصول کسی تنظیم کو منظم کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور یہ پیش گوئی ، منصوبہ بندی ، فیصلہ سازی ، تنظیم اور عمل کے انتظام ، کنٹرول اور کوآرڈینیشن کے لئے فائدہ مند ہیں۔

What is POSDCORB پوسڈ کورب کسے کہتے ہیں 7 پرنسپل آف لائبریری میجنمنٹ

What is POSDCORB
Posdcorb کے 7 اقدامات
پوس ڈی سی او آر بی ایک ایسا مخفف ہے جو انتظامیہ اور عوامی انتظامیہ کے شعبے میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے جو تنظیمی نظریہ کے کلاسیکی نظارے کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح طور پر سب سے پہلےلتھر گلِک اور لنڈال اروِک نے اس استلاح کو پہلی بار 1937 کے ایک مقالے میں شائع ہوا استعمال کیا۔ تاہم ، انہوں نے پہلی بار یہ تصور 1935 میں پیش کیا۔
ابتدا میں ، عوامی خدمت کے پیشہ ور افراد کو ترقی دینے کی کوشش میں POSDCORB کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ گلک کے اپنے الفاظ میں سات بنیادی ، عناصر حسب ذیل ہیں۔

1. منصوبہ بندی
2. تنظیم کرنا
3. عملہ
Direct. ہدایت کرنا
5. کو آرڈینیٹنگ
6. رپورٹنگ
7. بجٹ
منصوبہ بندی:

منصوبہ بندی سے مراد کام کے وسیع مسودہ کا قیام ہوتا ہے۔ یہ تکمیل کرنا ہے اور ان پر عمل درآمد کے لئے عمل شامل کیا گیا۔
منظم کرنا:
کام کے مختلف ذیلی حصوں یا ذیلی عملوں کی باقاعدہ طور پر تعریف ، مطابقت پذیری ، اور درجہ بندی کرنا شامل ہے۔
عملہ:
عملے میں ملازمت کے ل applic صحیح درخواست دہندگان کا انتخاب اور بھرتی شامل ہے۔ اور کام کا ایک وعدہ مند ماحول برقرار رکھتے ہوئے ان کی تربیت اور واقفیت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ہدایت:

ہدایت کاری میں مطلوبہ ڈھانچے اور فیصلہ سازی کی ہدایات اور ان کو پورا کرنے کے احکامات تفویض کرنا۔
رابطہ:

بنیادی طور پر ہم آہنگی سے مراد اسکورنگ اور کام کے بہت سارے میکانزم کو باہم جوڑنا ہے۔
رپورٹنگ:

رپورٹنگ میں بہتری اور کام سے متعلقہ کاموں کے بارے میں اکثر اعلی کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہوتا ہے۔ معلومات کی تقسیم معائنہ یا ریکارڈ کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔
بجٹ:

بجٹ میں وہ تمام واقعات شامل ہوتے ہیں جو اکاؤنٹنگ ، آڈیٹنگ کنٹرول ، اور مالی منصوبہ بندی کے تحت ہوتے ہیں۔

مالیات برائے کتب خانہ جات Library Budget and Finance

مالیات Finance
کسی بھی ادارے کی ترقی اور بہتر کارکردگی کا درومدار اس کے مالی وسائل پر ہوتا ہے مالی وسائل جس قدر زیادہ ہوں گے وہ ادارہ اسی طرح زیادہ ترقی کرے گا اور مضبوط ہوگا، کتب خانہ ایک خرچ کرنے والا اور ایک نامیاتی ادارہ ہوتا ہے اسے قائم کرنے، آئندہ قائم رکھے اور مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے وسیع مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ کسی بھی کتب خانے کی اپنی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کتب خانہ خواہ وہ کسی بھی قسم کا کسی بھی ادارے یا حکومت کے ماتحت ہو، وہ حکومت یا ادارہ اپنے کل بجٹ کا کچھ فیصد کتب خانے کے لیے لازمی مختص کرتے ہیں۔یہ رقم کتب خانہ کا بجٹ کہلاتی ہے۔
بجٹ کسے کہتے ہیں
بجٹ جسکو میزانیہ بھی کہا جاتا ہے کسی بھی ادارے کے ایک مالی سال کی آمدنی و اخراجات کا تخمینہ ہوتے ہے، ہر سال مالی سال شروع ہونے سے پیشتر دنیا کی تمام حکومتیں آنے والے سال کے لیے اپنی آمدنی اور اخراجات کا ایک اندازہ/تخمینہ لگانے کی کوشش کرتے ہیںاور پھر اس تخمینہ کے مطابق چند مالی پالیساں اختیار کرتی ہیں یا پرانے اصولوں میں معمولی یا زیادہ ردو بدل کرتی ہیں اس تمام کار گزاری کو میزانیہ سازی کہتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے اور تیس جون کو ختم ہوتا ہے حکومتیں اپنی مالیاتی پالیسی کے تحت جو متوقع آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ تیار کرتی ہیں اس قسم کے تخمینہ کو متوقع سرکاری میزانیہ کہا جاتا ہے اور اس کو سرکاری بجٹ کا نام دیا جاتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں اپنے بجٹ کو دوحصوں میں تیار کرتی ہیں ایک آمدنی کا بجٹ اور دوسرا کیپیٹل بجٹ، آمدنی کا بجٹ میں حکومتوں کے وہ تمام اخراجات درج کیے جاتے ہیں جو ملک کی فلاح و بہبود کیلیے استعمال ہوتیہیں، اور ان اخراجات کو حکومت کی آمدنی سے پورا کیا جاتا ہے۔جبکہ کیپیٹل بجٹ میں وہ تمام اخراجات شامل کیے جاتے ہیں جو کہ ملک کے معاشی شعبوں کی ترقی پر کیے جاتے ہیں۔
خسارے کا بجٹ اور فاضل بجٹ
جب بجٹ میں حکومت کی آمدنی کا تخمینہ اخراجات کے تخمینے سے زائد ہوتا ہے تو ایسا بجٹ فاضل بجٹ کہلاتا ہے جسکو (سرپلس) بجٹ بھی کہا جاتا ہے۔ایسا بجٹ ظاہر کرتا ہے کہ یا تو آمدنی کا تخمینہ زائد لگایا گیا ہے یا پھر جاری مالی سال کے لیے اخراجات کو کم کر دیا گیا ہے اس لیے فاضل بجٹ کا عوام پر برا اثر پڑٹا ہے اس کے برعکس خسارے کا بجٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جاری مالی سال میںحکومت کے اخراجات کا تخینہ اس کی آمدنی کے تخمہنی سے زیادہ ہے اور ان زائد اخراجات کیلیے لوگوں پر اس مرحلے میں دوبارہ تیکس نہیں لگایا جاے گا۔
کتب خانے اور بجٹ:
کسی بھی کتب کانے لیے مختص کی جانے والی رقم کتب خانہ کا بجٹ کہلاتی ہے، بجٹ کا احصار ادارے اور کتب خانہ کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے مثلا حکومت اپنے کل بجٹ میں جو رقم قومی کتب خانہ کی ترقی کے لیے مختص کرتی ہے وہ اس کا بجٹ کہلاتاہے، بجٹ ک مزید تقسیم کتب خانہ کی انتظامیہ اپنی ضروریات کے مطابق کرتی ہے۔
اسکول اور کالج کا بجٹ:
اسکول و کالج اور جامعات کے کتب خانوںکا بجٹ انتظامیہ کیکل بجٹ میں شامل ہوتا ہے بعد ازاں انتظامیہ کتب خانہ کیلیے کچھ رقم مختص کرتی ہے جو کتب خانہ کا بجٹ کہلاتا ہے۔اسی طرح دیگر اقسام کے کتب خانوں کا بجٹ بھی کتب اااخانہ کی انتظامیہ جس کے تحت وہ کتب خانہ کام کرتا ہے مقرر کرتی ہے۔بجٹ کی مزید تقسیم کتب خانہ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے لائبریرین بطور منتظم کتب خانہ دیگر عملہ کے تعاون سے کرتا ہے۔
کتب خانہ کے بجٹ کی تقسیم:
کتب خانہ کے بجٹ کی تقسیم میں عموما درج ذیل امور شامل ہوتیہیں اور مختلف مدوں میں خرچ ہونے والے اخراجات کی تفصیل کچھ اس طرح ہو گی۔
1۔ کتب خانہ کے عملہ کی تنخواہ
2۔حصول کتب (خریداری کتب)
3۔حصول رسائل و جرائد
4-حصول اخبارات
5- اسٹیشنری (کاغذ، پنسلیں، مارکر، کاربن پیپر وغیرہ)
6-فرنیچر کی خریداری (کرسیاں، میزیںوغیرہ)
7-برقی آلات کی خریداری (پنکھے، لائٹس، کولر، اے سی وغیرہ)
8-مرمت آلات
9-جلد سازی
10-عمارت کا کرایہ
11-سالانہ صفائی
12-نمائش کتب
13-بل (بجلی، ٹیلی فون، گیس،پانی وغیرہ)
14- کمپیوٹر کی خریداری
15 – کمپیوٹر کی مینٹینس
19- سکیورٹی سٹرپس کی خریداری
20- بک پاکٹ، مستعیر کارڈ، کتابی کارڈ وغیرہ کی خریداری
21- متفرق اخراجات
مندرجہ بالا مدوں میں رقوم کی تقسیم میں عملہ کی تنخواہ کے بعد سب سے زیادہ بجٹ کا خرچ کتب اوررسائل و جرائد کی خریداری پر ہوتا ہے عموما کل لائبریری بجٹ کا 40سے 50 فیص حصہ علمی مواد کی خریداری کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ماہر لائبریر ی سائنس جناب الطاف شوکت نے اپنی کتاب میں نظام کتب خانہ میں اخراجات کی تقسیم کچھ اس طرح سے کی ہے۔
1-تنخواہ اسٹاف کیلیے کل رقم 50 ٪
2۔کتابوں کے لیے کل رقم 25٪
3۔ اخبارات و رسائل کے لیے رقم 12٪
4-جلد سازی کے لیے رقم 05٪
5-بیمہ کاری کے لیے رقم 01٪
6- بلوں کے لیے رقم 02 ٪
7- اسٹیشنری و دیگر متفرق اخراجات 05 ٪
ہر قسم کے کتب خانوں کے بجٹ کی تقسیم کے لیے سب سے آسان فارمولا اور واضح و مناسب طریقہ انجمن فروغ و ترقی کتب خانہ جات کے شائع کردہ پلان فار لائبریری ڈویلپمنٹ میں بیان کیا گیا ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے
اسکولوں کے کتب خانے اور بجٹ
پرائمری اسکولو ں میں پانچ روپیے فی طالب علم سالانہ صرف کتب و رسائل کے لیے مختص ہونا چاہیے مثلا ایک اسکول میں اگر بچوں کی کل تعداد 100 ہے تو سالانہ لائبریری بجٹ کتب و رسائل کیلیے 500 روپیے جمع ہوں گے کتب خانے کے دیگر اخراجات اسکول کے کل بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
اسی طرح اگر ہائی اسکول ہے تو فی طالب علم 10 روپیے سالانہ اس سے فیس لی جائے گی یہ رقم بھی صرف کتب و رسائل کی خریداری کے لیے مخصوص ہوگی کتب خانے کے باقی اخراجات اسکول کے کل بجٹ سے پورے کیے جائیں گے، موجودہ دور میں فی طالب رقم میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم پرائیوٹ ادارے اس رقم کو اپنی منشاء کے مطابق کم یا زیادہ کرتے ہیں۔
کالج کتب خانہ اور بجٹ:
پاکستان میں کالج کی بہت سی اقسام ہیں جن میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، کامرس کالج، لاء کالج، میڈیکل کالج، ایسوسی ایٹ کالج، گریجوائیٹ کالج وغیرہ موجود ہیں انجمن فروغ و ترقی کتب خانہ جات نے اپنی سفارشات میں کسی بھی کالج میں لائبریری فیس فی طالب علم 25 روپیے مقرر کی ہے جو کہ انتہائی معمولی ہے، طلباء سے حاصل ہونے والے یہ رقم کتب اور رسائل کی خریداری کے لیے استعمال ہو گی۔اگر کسی کالج میں طلبہ کی تعداد 8000 ہے تو صرف کتب و رسائل کی خریداری ک لیے سالانہ دو لاکھ روپیے مقرر ہوں گے۔ موجودہ دور میں کالجز کے اندر طلبہ سے 200 سے 500 تک فیس مقرر ہے جو کہ قابل واپسی ہوتی ہے۔
تقسیم بجٹ برائے کالج لائبریری:
1000 کالج میں طلبہ و طالبات کی کل تعداد
50 کالج میں اساتذہ کی کل تعداد
رقم فی طالب علم 25روپیے کے حساب سے 2500 ہزار سے زائد صرف کتب اور رسالہ جات کے لیے مخصوص کی جائے گی اس رقم میں سارا سال اخبارات اورر سائل کی خریداری ہو گی۔
کالج میں کتب کے لیے بجٹ کی تقسیم:
25 برائے حوالہ جاتی کتب
10 نصابی کتب
25 مختلف علوم و فنون کی عام کتب
10 سمعی و بصری مواد
25 رسائل و جرائد
5 اخبارات
نوٹ:
عملہ کی تنخواہ عمارت کی مرمت، فرنیچر و آلات کی خرید و مرمت جلد سازی، بجلی بل، پانی بل و دیگر اخراجات کالج کے بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
قومی کتب خانہ کا بجٹ:
قومی کتب خانیکے لیے کل قومی آمدن کا 0.10روپیے سالانہ بجٹ مختص ہوتا ہے۔
جامعات کے کتب خانے:
جامعات کے کتب خانوں میں طلبہ کے داخلہ کے وقت کم از کم پچاس روپیے فیس مقرر ہے تاہم اب یہ رقم بڑھ کر 1000 سے 2000 تک وصول کی جاتی ہے اور یہ رقم بھی اسکول و کالج کی طرح صرف کتب و رسائل و جرائد کی خریداری پر صرف کی جاتی ہے۔کتب خانے کے باقی تمام اخراجات جامعات کے کل بجٹ سے پورے کیے جاتے ہیں۔مختلف شعبہ جات کے کتب خانوں میں اس ادارے کے کل بجٹ کا 5 فیصد کتب خانے کیلیے صرف کتابوں اور رسائل و اخبارات کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔وقت و حالات اور ضروریات کے مطابق فی کس رقم میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے کتب خانے کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

error: Content is protected !!